مرے اندر کا انساں کیف کے عالم میں رہتا ہے
مرے اندر کا انساں کیف کے عالم میں رہتا ہے
گداز و سوز میں ڈوبا ہوا شاعر کا لہجہ ہے
مدینے کی ہوا کلکِ ثنا کو چوم کر گذری
دریچہ صبحِ جاں پر آپ کی مدحت کا کھُلتا ہے
بفیضِ نعتِ ختم المرسلیں، یہ زندگی میری
مدینے میں کرم کی بارشوں کا ایک چھینٹا ہے
مرے احباب دیکھیں گے سرِ محشر بھی حیرت سے
ثنا گوئی کا ہر دن میری بخشش کا وسیلہ ہے
کروڑوں آفتابوں، چاند تاروں میں ضیا بانٹے
صحائف میں فروزاں وہ مرے آقا کا چہرہ ہے
مسلسل رتجگوں کی ایک دنیا دی گئی مجھ کو
ہیں آنکھیں نیند سے بوجھل، مقدر جاگ اٹھا ہے
بڑی تکلیف سے چھوٹے ممالک سانس لیتے ہیں
یہ میثاقِ اخوت بھی سراسر ایک دھوکہ ہے
نبی جی، کھڑکیاں ہیں بند بستی کے مکانوں کی
یہ کس آسیب کا دیوار و در سے خوف لپٹا ہے
خس و خاشاکِ طیبہ کا کفن مجھ کو عطا ہوگا
یہی اعزاز دہلیزِ نبی پر میں نے مانگا ہے
جہاں والے تو مصروفِ تشدد ہیں سرِ مقتل
ریاضؔ ابرِ کرم بھی ٹوٹ کر دنیا میں برسا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.