محورِ ہر سخن آپ کی ذات ہو
محورِ ہر سخن آپ کی ذات ہو
آسماں سے درودوں کی برسات ہو
جب قلم مطلعِ نعت، آقا لکھے
ساتھ میرے ستاروں کی بارات ہو
اہلِ محشر میں بانٹوں بڑے شوق سے
پاس میرے کھجوروں کی سوغات ہو
جب لحد میں اتاریں مجھے ہمسفر
یا خدا! روشنی سے ملاقات ہو
میرے اس خطۂ پاک کے ہر طرف
بارشِ عفو و رحمت ہی دن رات ہو
جب ریاضؔ آپ کی نعت لکھنے لگے
اس کے ہونٹوں پہ حرفِ مناجات ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.