Font by Mehr Nastaliq Web

میرا قلم حضور کے در پر پڑا رہے

ریاض حسین چودھری

میرا قلم حضور کے در پر پڑا رہے

ریاض حسین چودھری

MORE BYریاض حسین چودھری

    میرا قلم حضور کے در پر پڑا رہے

    بعد از قیامِ حشر بھی محوِ ثنا رہے

    طاقِ دعائے آخرِ شب میں ادب کے ساتھ

    یا رب! چراغِ نعتِ پیمبر جلا رہے

    شاعر نبی کا در پہ رکھے آنسوؤں کے ہار

    تصویر احترام کی بن کر کھڑا رہے

    فضلِ خدا کے ساتھ قیامت کے روز بھی

    ہمراہ میرے رحمتِ خیرالوریٰ رہے

    اتنی سی التجا ہے تری بارگاہ میں

    گلزارِ نعت لب پہ کِھلا ہے، کِھلا رہے

    خوشبو چراغ لے کے ابد تک رہے کھڑی

    ہر ایک نعت گو کا یہی رتجگا رہے

    طیبہ کی وادیوں میں اڑے طائرِ خیال

    مصروف نعت پڑھنے میں ٹھنڈی ہوا رہے

    شاید حضور اذنِ حضوری عطا کریں

    شہرِ حضور میں ابھی بادِ صبا رہے

    بینائی کھو گئی ہے تو کھوئی رہے ریاضؔ

    آنکھوں میں ان کا روضئہ اطہر سجا رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے