Font by Mehr Nastaliq Web

ہر شب مجھے ہو جاتا ہے دیدارِ مدینہ

ریاض حسین چودھری

ہر شب مجھے ہو جاتا ہے دیدارِ مدینہ

ریاض حسین چودھری

MORE BYریاض حسین چودھری

    ہر شب مجھے ہو جاتا ہے دیدارِ مدینہ

    ہر روز میں پڑھ لیتا ہوں اخبارِ مدینہ

    بوسیدہ کتابوں کے ورق الٹو گے کب تک

    تابندہ ہیں، رخشندہ ہیں افکارِ مدینہ

    یا رب! ہوں عطا اور تسلسل سے عطا ہوں

    تہذیبِ پراگندہ کو اقدارِ مدینہ

    سب مردہ ضمیروں کو جلا ڈالوں تو اچھا

    دیتے ہیں سبق عشق کا احرارِ مدینہ

    میں اس کے کسی طاق میں رکھ آیا ہوں آنکھیں

    ہم راز ہے، دمساز ہے دیوارِ مدینہ

    امشب بھی ریاضؔ عالمِ رویا میں یقینا

    برسیں گے مری آنکھ پہ انوارِ مدینہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے