ہر شب مجھے ہو جاتا ہے دیدارِ مدینہ
ہر شب مجھے ہو جاتا ہے دیدارِ مدینہ
ہر روز میں پڑھ لیتا ہوں اخبارِ مدینہ
بوسیدہ کتابوں کے ورق الٹو گے کب تک
تابندہ ہیں، رخشندہ ہیں افکارِ مدینہ
یا رب! ہوں عطا اور تسلسل سے عطا ہوں
تہذیبِ پراگندہ کو اقدارِ مدینہ
سب مردہ ضمیروں کو جلا ڈالوں تو اچھا
دیتے ہیں سبق عشق کا احرارِ مدینہ
میں اس کے کسی طاق میں رکھ آیا ہوں آنکھیں
ہم راز ہے، دمساز ہے دیوارِ مدینہ
امشب بھی ریاضؔ عالمِ رویا میں یقینا
برسیں گے مری آنکھ پہ انوارِ مدینہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.