مرے نبی کے مدینہ کی رہ گذر میں رہے
مرے نبی کے مدینہ کی رہ گذر میں رہے
ازل سے تا بہ ابد روشنی سفر میں رہے
زمیں پہ سرخ خراشیں بہت زیادہ ہیں
جمالِ گنبدِ خضرا شجر شجر میں رہے
قلم حضور کی دہلیز سے چنے آنسو
مرا خیال ابھی قریۂ ہنر میں رہے
حضور، لکھا گیا ہے صبا کے آنچل پر
گلوں کا ذوقِ نمو، شاخِ بے ہنر میں رہے
یہ طے ہوا ہے، نبی جی، خدا کی ہر بستی
اداس شام کے اجڑے ہوئے کھنڈر میں رہے
ریاضؔ، ارضِ تمدن کے گھپ اندھیروں میں
چراغِ سیرتِ اطہر، دل و نظر میں رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.