مرے دن رات پر چشمِ کرم سرکار ہو جائے
مرے دن رات پر چشمِ کرم سرکار ہو جائے
غریبِ شہرِ زر بھی حاضرِ دربار ہو جائے
مدینے کی تڑپ کا رنگ ہر سرخی میں شامل ہے
مری رودادِ غم بھی آج کا اخبار ہو جائے
میں ان کے اسمِ رحمت کی گھنی چھاؤں میں بیٹھا ہوں
مری دیوار کا سایہ پسِ دیوار ہو جائے
ورق پر آیتِ عشقِ نبی جس دن نہ یہ لکھے
قلم میرا ہمیشہ کے لیے بے کار ہو جائے
کہاں ناکارہ یہ آنکھیں کہاں وہ چہرۂ انور
مگر مولا! کسی شب آپ کا دیدار ہو جائے
سند دربارِ اقدس سے ملے مدحت نگاری کی
غبارِ وادیٔ بطحا مری دستار ہو جائے
مقفل کر دیا جائے اگر ہونٹوں کو مقتل میں
ریاضؔ اپنا ہر اک آنسو زرِ گفتار ہو جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.