Font by Mehr Nastaliq Web

ہر صبح مدینے میں، ہر شام مدینے میں

ریاض حسین چودھری

ہر صبح مدینے میں، ہر شام مدینے میں

ریاض حسین چودھری

MORE BYریاض حسین چودھری

    ہر صبح مدینے میں، ہر شام مدینے میں

    یارب ہو غلامی کا انجام مدینے میں

    دہلیزِ پیمبر پر اشکوں سے وضو کر کے

    باندھا ہے چراغوں نے احرام مدینے میں

    سب جھولیاں بھر بھر کے آتے ہیں مدینے سے

    ہو جاتا ہے سائل کا ہر کام مدینے میں

    توحید کے پرچم میں ہر سمت فصیلوں پر

    اللہ کا اترا ہے پیغام مدینے میں

    ہر سمت درودوں کی رم جھم کے مناظر ہیں

    زم زم کے چھلکتے ہیں سب جام مدینے میں

    تشکیک کے جنگل میں کیوں ٹھوکریں کھاتا ہے

    سرکار کے دامن کو آ تھام مدینے میں

    ہوتی ہے عطاؤں کی بارش درِ آقا پر

    ہر شخص کو دیتے ہیں انعام مدینے میں

    کمزور ممالک کے احوال میں کیا لکھوں

    سائل کی طرح آئیں اقوام مدینے میں

    شہرت کا نہ بھوکا ہے دولت کا نہ پیاسا ہے

    شاعر ہے ریاضؔ ان کا بے نام مدینے میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے