شجر اک بے ثمر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ
شجر اک بے ثمر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ
لہو میں تر سحر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ
سرِ مقتل ہوئی ہے قتل انسانوں کی بینائی
نوائے نوحہ گر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ
بیاں کیسے کروں جو حشر برپا ہے مرے اندر
بدن کا بس کھنڈر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ
کھڑا ہوں عشق کے بازار میں اور میرے کاسے میں
زرِ نامعتبر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ
سجھائی کچھ نہیں دیتا کہ تاریکی قیامت کی
در و دیوار پر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ
کبھی اذنِ سفر پھر وادیٔ بطحا کی جنت کا
غبارِ رہ گزر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ
مصائب میں سلگتی شام تنہائی کے جنگل میں
مری یہ چشمِ تر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ
سماعت پر گری ہیں بجلیاں شہرِ حوادث میں
ہوائے شور و شر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ
ہوس کاروں کی بستی میں ہوس مردہ نہیں ہوتی
عذابِ مال و زر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ
تعین سمت کا ممکن نہیں ان گھپ اندھیروں میں
مسلسل اک سفر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ
مقفل سارے در ہیں راستہ کوئی نہیں ملتا
ریاضِؔ بے ہنر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.