Font by Mehr Nastaliq Web

شجر اک بے ثمر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ

ریاض حسین چودھری

شجر اک بے ثمر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ

ریاض حسین چودھری

MORE BYریاض حسین چودھری

    شجر اک بے ثمر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ

    لہو میں تر سحر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ

    سرِ مقتل ہوئی ہے قتل انسانوں کی بینائی

    نوائے نوحہ گر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ

    بیاں کیسے کروں جو حشر برپا ہے مرے اندر

    بدن کا بس کھنڈر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ

    کھڑا ہوں عشق کے بازار میں اور میرے کاسے میں

    زرِ نامعتبر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ

    سجھائی کچھ نہیں دیتا کہ تاریکی قیامت کی

    در و دیوار پر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ

    کبھی اذنِ سفر پھر وادیٔ بطحا کی جنت کا

    غبارِ رہ گزر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ

    مصائب میں سلگتی شام تنہائی کے جنگل میں

    مری یہ چشمِ تر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ

    سماعت پر گری ہیں بجلیاں شہرِ حوادث میں

    ہوائے شور و شر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ

    ہوس کاروں کی بستی میں ہوس مردہ نہیں ہوتی

    عذابِ مال و زر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ

    تعین سمت کا ممکن نہیں ان گھپ اندھیروں میں

    مسلسل اک سفر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ

    مقفل سارے در ہیں راستہ کوئی نہیں ملتا

    ریاضِؔ بے ہنر ہے اور میں ہوں یا رسول اللہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے