دیے جلانے کی اشکوں سے ابتدا کی ہے
دیے جلانے کی اشکوں سے ابتدا کی ہے
نقوشِ پائے محمد کی اقتدا کی ہے
تمام عمر درود و سلام پڑھتے ہوئے
جنابِ سیدِ سادات کی ثنا کی ہے
افق افق پہ چمکتے ہوئے ستاروں میں
تمام روشنی ان کے نقوشِ پا کی ہے
میں جس کے اذنِ مسلسل سے سانس لیتا ہوں
فقط وہ ایک ہی ہستی مرے خدا کی ہے
ریاضؔ حشر میں ڈھونڈیں گے آپ کا خیمہ
یہ بات ربِ محمد کے انبیا کی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.