چراغِ آرزو اپنی ہتھیلی پر سجا مانگو
چراغِ آرزو اپنی ہتھیلی پر سجا مانگو
خدائے مہرباں سے روشنی کا سلسلہ مانگو
پروں پر مستقل اسمِ محمد لکھ دیا جائے
فضائے گنبدِ خضرا میں اڑنے کی دعا مانگو
قلم لکھے گا خود کرنوں سے ہر اک نعت کا مطلع
جمال و حسن کے اوراق تم بہرِ خدا، مانگو
صبا انگلی پکڑ کر لے کے آئی ہے مدینے میں
خدا سے آنسوؤں میں تر حروفِ التجا، مانگو
انہی کی سیرتِ اطہر سے روشن مکتبِ جاں ہے
دکانِ شیشہ گر سے تم کتابِ ارتقا مانگو
لگا کر ان کو سینے سے قیامت تک یہ زندہ ہیں
مدینے کے گلی کوچوں سے ان کے نقشِ پا مانگو
مہاجن پی گئے پانی مرے کھیتوں کے حصے کا
مدینے کے افق پر جھومتی کالی گھٹا مانگو
ہوئے ہیں خود کشی پر آج آمادہ مرے بچے
وطن کی سر زمیں سے تیرگی کا انخلا مانگو
بدن پر عاجزی کا پیرہن ہی صرف سجتا ہے
خدائے لم یزل سے مت کبھی جھوٹی انا مانگو
خدائے علم و دانش سے، مصلے پر کھڑے ہو کر
لب و لہجہ نبی کی نعت کا، سب سے جدا، مانگو
یہ وہ دولت ہے جو دونوں جہاں میں کام آتی ہے
اگر کچھ مانگنا ہی ہے تو عشقِ مصطفیٰ مانگو
وسیلہ دے کے نعلینِ نبی کا آج بھی شب بھر
زمیں پر سانس لینے کے لیے تازہ ہوا مانگو
سماعت پر گرے ہیں اس قدر پتھر حوادث کے
بنو نجار کے خوش بخت بچوں کی صدا، مانگو
مدینے کی ہواؤں سے تعارف ہو نہیں پایا
ریاضؔ عشقِ پیمبر کی خدا سے انتہا، مانگو
نہیں معلوم، شہرِ مصطفیٰ کی کس گلی میں ہوں
ہوائے شہرِ طیبہ سے، ریاضؔ، اپنا پتہ، مانگو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.