Font by Mehr Nastaliq Web

مرحبا صد مرحبا صد مرحبا کرتے ہوئے

ریاض حسین چودھری

مرحبا صد مرحبا صد مرحبا کرتے ہوئے

ریاض حسین چودھری

MORE BYریاض حسین چودھری

    مرحبا صد مرحبا صد مرحبا کرتے ہوئے

    کھو میں جاتا ہوں کہاں ان کی ثنا کرتے ہوئے

    چوم لوں گا میں قلم کو احتراماً آج بھی

    نعتِ آقائے ازل کی ابتدا کرتے ہوئے

    امتی امی نبی کا ہوں، رہے اتنا خیال

    میرے جرمِ آگہی کا فیصلہ کرتے ہوئے

    اس کے مالک، اس کے والی، والیٔ کونین ہیں

    سوچ لے دنیا کسی کو بے نوا کرتے ہوئے

    جھولیاں بھر بھر کے اٹھے وہ درِ سرکار سے

    جو وہاں پہنچے تھے قسمت کا گلہ کرتے ہوئے

    اپنے کشکولِ تمنا میں گہر پاتا ہوں میں

    اشکِ پیہم کو زرِ خاکِ حرا کرتے ہوئے

    میں لٹاؤں گا زرِ ملکِ سخن شام و سحر

    عام توصیف و ثنا کا ذائقہ کرتے ہوئے

    میں نے دیکھا ہے ہجومِ ماہ و انجم کا فروغ

    ایک سجدہ خاکِ طیبہ پر ادا کرتے ہوئے

    کشتیٔ افکارِ نعتِ والیٔ کون و مکاں

    خوف آتا ہے سپردِ ناخدا کرتے ہوئے

    پھر حضوری کے مراحل سے گزر جاؤں گا میں

    ان کے در پر حاضری کی التجا کرتے ہوئے

    مجھ سے ناکارہ کے ہاتھوں پر بھی رکھ دیتے ہیں پھول

    لطف فرماتے ہیں سب پر وہ عطا کرتے ہوئے

    مغفرت کی ہے ضمانت نام جن کا اے خدا

    نام ان کا لب پہ آ جائے دعا کرتے ہوئے

    چادرِ زینب کا بھی کوئی نہیں آتا خیال

    دخترِ حوا کے سر کو بے ردا کرتے ہوئے

    اس لیے خوشبو مرے ہاتھوں سے جاتی ہی نہیں

    پھول کھل اٹھتے ہیں تقلیدِ رضا کرتے ہوئے

    ہم درِ خیرالبشر پر جا ہی پہنچے ایک دن

    راستے کے ہر شجر سے رابطہ کرتے ہوئے

    مسندِ رشد و ہدایت پر ہوئے تھے جلوہ گر

    سب پیمبر آپ ہی کا تذکرہ کرتے ہوئے

    صبحِ میلادالنبی جھک کر ستاروں نے کہا

    آپ آئے ہیں زمانوں کا بھلا کرتے ہوئے

    کارِ لاحاصل میں ہے مصروف عہدِ مضطرب

    دین کی بنیاد کو رزقِ انا کرتے ہوئے

    تاجِ شر کے لشکری لا کر سرِ مقتل مجھے

    مطمئن ہیں عصرِ نو کو کربلا کرتے ہوئے

    مسندِ عظمت شبِ اسریٰ خدا نے کی عطا

    آسماں کو ان کی خاکِ نقشِ پا کرتے ہوئے

    آؤ تعظیم نبی کی مشعلیں روشن کریں

    روز و شب کی ساعتوں کو رتجگا کرتے ہوئے

    زندگی بھر طاقِ عظمت میں رہا میرا چراغ

    ان کے ہر نقشِ قدم کی اقتدا کرتے ہوئے

    میں نے سانسوں میں چھپا لی نعت کی سب روشنی

    قریۂ ہنگامِ شر سے انخلا کرتے ہوئے

    ہو سکے تو ساتھ میرے شہرِ پیغمبر میں چل

    انتہائے شوق کا طے مرحلہ کرتے ہوئے

    دن تو گزرا ہے تصور میں درِ سرکار پر

    رات کٹ جائے گی ذکرِ مصطفیٰ کرتے ہوئے

    آئینہ خانے میں عکسِ گنبدِ خضریٰ سجا

    آج پھر مسمار دل کا بتکدہ کرتے ہوئے

    ڈوب جاؤں گا ندامت کے پسینے میں ریاضؔ

    روزِ محشر آپ کا میں سامنا کرتے ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے