Font by Mehr Nastaliq Web

ریاضِؔ بے نوا کے حال پر اتنا کرم آقا

ریاض حسین چودھری

ریاضِؔ بے نوا کے حال پر اتنا کرم آقا

ریاض حسین چودھری

MORE BYریاض حسین چودھری

    ریاضِؔ بے نوا کے حال پر اتنا کرم آقا

    کہ اٹھتا ہی نہیں سجدے سے اب میرا قلم آقا

    نئے آفاق کی تسخیر ہو اہداف میں شامل

    چراغِ نو کریں روشن فقیہانِ حرم آقا

    شبِ معراج نے کتنے مقفل راستے کھولے

    خلا میں ہر طرف ہیں آپ کے نقشِ قدم آقا

    مؤرخ آپ کی امت کے روز و شب کا امشب بھی

    کرے تاریخ کے ماتھے پہ آنسو سب رقم آقا

    عرب کے ریگ زاروں میں ثنا کے پھول کھلتے ہیں

    سلامِ دیدہ و دل لے کے آیا ہے عجم آقا

    گرہ کھولے ہوا آکر کبھی میرے تخیل کی

    منّور ہوں ہمیشہ راستوں کے پیچ و خم آقا

    لہو میں تر یہ جتنے بھی مناظر ہیں بدل جائیں

    بھرا ہے مرثیوں، نوحوں سے ہی طشتِ الم آقا

    مسلسل ابرِ رحمت میری بستی کے مکینوں پر

    مسلسل ہوں کرم کی بارشیں، میرِ امم آقا

    حصارِ عافیت میں ہو نئے انساں کا ہر خطہ

    امیرِ کارواں، سالارِ اعظم، محتشم آقا

    نئے دن کی بشارت دیجیے سرکار دنیا کو

    کئی خطوں میں ہے آباد اب ملکِ عدم آقا

    شرافت، بردباری اور تحمل کا کھلے موسم

    زوالِ عصر کا عرصہ زمیں پر کم سے کم آقا

    تلاشِ عافیت میں ہے ریاضِؔ لب کشا کب سے

    امام الانبیا، خیرالبشر، اے محترم آقا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے