Font by Mehr Nastaliq Web

اینٹ پتھر ذکر کرتے ہیں مری سرکار کا

ریاض حسین چودھری

اینٹ پتھر ذکر کرتے ہیں مری سرکار کا

ریاض حسین چودھری

MORE BYریاض حسین چودھری

    اینٹ پتھر ذکر کرتے ہیں مری سرکار کا

    یہ ازل ہی سے وظیفہ ہے در و دیوار کا

    بادلوں سے ریشمی بوندیں برسنے لگ پڑیں

    نام خوشبو نے لیا تھا سیدِ ابرار کا

    ہر گلی کے موڑ پر، ہر کوچہ و بازار میں

    رتجگا دیکھا گیا ہے آپ کے انوار کا

    ہر طرف ہوگی حکومت آمنہ کے لال کی

    ہر طرف سکہ چلے گا احمدِ مختار کا

    نور و نکہت کی بکھر جاتی ہیں لاکھوں مشعلیں

    جب تصور باندھتا ہوں آپ کے دربار کا

    ان کے در پر حیرتوں کا اے خدا دفتر کھلے

    آنکھ کو حاصل شرف ہو آپ کے دیدار کا

    دھڑکنیں قابو میں رہتی ہیں کہاں شامِ فراق

    حال کیا ہو گا مدینے میں دلِ بیدار کا

    جو ملی تھی شہرِ طیبہ میں غریبِ شہر کو

    روزِ محشر سر پہ ہے سایہ اسی دستار کا

    ہوشمندی کا تقاضا ہے کہ ہم سوچیں، ریاضؔ

    آئنوں میں عکس ہے کس صاحبِ کردار کا

    خوبصورت ہے ترے الفاظ کی بندش، ریاضؔ

    منفرد اسلوب ہے تیرے لبِ اظہار کا

    چوم کر آیا ہوں، دہلیزِ پیمبر کو ریاضؔ

    خاکِ طیبہ سے معطر پھول ہے افکار کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے