Font by Mehr Nastaliq Web

عالمِ شعر و ادب میں یوں تو ہے

رشی پٹیالوی

عالمِ شعر و ادب میں یوں تو ہے

رشی پٹیالوی

MORE BYرشی پٹیالوی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)

    عالمِ شعر و ادب میں یوں تو ہے

    ہر کسی کا اپنا رنگ اپنا مقام

    اپنا انداز، اپنا ڈھب، اپنی ادا

    اپنا فن، اپنا سخن، اپنا کلام

    ہاں! مگر ان کا کوئی ثانی نہیں

    یاد رکھے جائیں گے دو چار نام

    میر آتش غالب و خسرو، ولی

    آیتِ تسخیر تھا جن کا کلام

    ان میں بھی جو مرتبہ خسرو کا ہے

    برتری میں وہ رہے گا لاجواب

    یوں درخشندہ رہے گا حشر تک

    جس طرح تاروں کی صف میں ماہتاب

    در فصاحت، در بلاغت در بیاں

    بزم فِکر و فن پہ ہے چھایا ہوا

    آج تک، صدیاں گذر جانے پہ بھی

    مستند ہے اس کا فرمایا ہوا

    لاکھ پنپے وسعتِ عِلم و ادب

    لاکھ ہو کوئی سلاست کا امیں

    جو کہا اس نے زبانِ عام میں

    اس کی عظمت کا بدل ممکن نہیں

    عرش پیما اس کی فکر نکتہ رس

    حسنِ معنی خوش بیانی سے عیاں

    عامیانہ طرزِ نو، اسلوبِ نو

    نقشِ صوری تر زبانی میں نہاں

    ٹھمریوں، پٹوں، دو سخنوں کا دھنی

    ابتداً خسرو سلطانی تھا وہ

    شہرۂ نظم اس کا تھا ایران تک

    ہند میں خاقانیٔ ثانی تھا وہ

    اس کے فرموداتِ حق و آگہی

    ہیں زباں زد آج بھی بہرِ سخن

    تھا وہ نباض مزاجِ زندگی

    اس کا چرچا انجمن در انجمن

    خدمتِ علم و ادب کے ساتھ ساتھ

    غرقِ عرفان و عبادت بھی رہا

    وہ علم بردارِ آئینِ وفا

    شاہدِ حق و حقیقت بھی رہا

    اس کا مذہب مذہب انسانیت

    آگہی اس کی حقیقت آشنا

    اس کی تعلیم اتحاد و اشتراک

    اک معلم بھی تھا وہ شاعر بھی تھا

    سو صفات اک ذات میں مرکوز تھیں

    دل کا بھی تھا، نام کا بھی تھا امیر

    حاملِ سرمایۂ علم و ہنر

    پھر بھی تھا وہ سو فقیروں کا فقیر

    ایک رشتے میں پُرونے کے لیے

    دلی و لاہور و ملتان و دکن

    زندگی بھر وہ عمل پیرا رہا

    بر بنائے ارتقائے علم و فن

    گفتگوئے فکر و فن ہوگی جہاں

    نام خسرو کا زباں پر آئے گا

    باعثِ توقیر یادِ رفتگاں

    نام یہ عہد آفریں کہلائے گا

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 70)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے