Font by Mehr Nastaliq Web

چشمِ تر جب مری طیبہ پر جائے گی

روشن پروین

چشمِ تر جب مری طیبہ پر جائے گی

روشن پروین

MORE BYروشن پروین

    چشمِ تر جب مری طیبہ پر جائے گی

    قلبِ مضطر کو پھر زندہ کر جائے گی

    ہم بھی اک شام اس در پہ ہوں گے کھڑے

    بادِ طیبہ جگر میں بکھر جائے گی

    انتظارِ ملاقات میں طیبہ کے

    ذکرِ آقا میں یہ شب گزر جائے گی

    روزِ محشر یہ بخشش کی امید ہے

    ان کی رحمت یوں امداد کر جائے گی

    میں مدینہ کی مٹی میں مل جاؤں گی

    پوری دنیا میں روشنؔ خبر جائے گی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے