چشمِ تر جب مری طیبہ پر جائے گی
چشمِ تر جب مری طیبہ پر جائے گی
قلبِ مضطر کو پھر زندہ کر جائے گی
ہم بھی اک شام اس در پہ ہوں گے کھڑے
بادِ طیبہ جگر میں بکھر جائے گی
انتظارِ ملاقات میں طیبہ کے
ذکرِ آقا میں یہ شب گزر جائے گی
روزِ محشر یہ بخشش کی امید ہے
ان کی رحمت یوں امداد کر جائے گی
میں مدینہ کی مٹی میں مل جاؤں گی
پوری دنیا میں روشنؔ خبر جائے گی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.