ہوا حور و ملک میں شوق جلوہ شاہِ قاتل کا
دلچسپ معلومات
نوٹ: حضرت قاتلؔ اجمیری کے چہلم کے موقع پر عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں ضیاؤالقادری بدایونی کی صدارت میں ایک طرحی مشاعرہ منعقد ہوا، جس کے لیے مصرعِ طرح ’’مریدوں کے لیے کعبہ ہے روضہ شاہِ قاتل کا‘‘ سیمابؔ اکبرآبادی نے اپنے زمانۂ علالت میں پیش کیا۔
ہوا حور و ملک میں شوق جلوہ شاہِ قاتل کا
عجب حق نے رخ زیبا بنا یا شاہِ قاتل کا
عطا گنجینۂ عرفاں سے فرمایا جو عالم کو
برب کعبہ وہ حصہ تھا حصہ شاہِ قاتل کا
نہیں اس کے سوا کوئی تمنا مجھ کو محشر میں
کہ میرے سر پہ ہو دامن خدایا شاہِ قاتل کا
مجھے تسکین انوار شہِ قاتل سے ہوتی ہے
ازل سے ہوں میں جاں سوزِ تمنا شاہِ قاتل کا
- کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 28)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.