بساطِ ارض پہ ابھرے ہیں دیدہ ور لاکھوں
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
بساطِ ارض پہ ابھرے ہیں دیدہ ور لاکھوں
مہ و نجوم فضا میں ہیں جلوہ گر لاکھوں
بدل بدل کے نظر آئے صبح و شام کئی
رہِ حیات میں مجھ سے ملے مقام کئی
کمالِ شعر و ادب کا جہاں مقام آیا
نجانے میری زباں پر یہ کس کا نام آیا
ترے سوا نہیں یہ اور کوئی، اے خسرو
کہاں سے لائے ترا طور کوئی، اے خسرو
جہانِ شوق میں تونے جگائے ہیں جادو
تراشے ہیں صنمِ نظم و نثر کے پہلو
تری حکایتِ دل ہے حدیث راز و نیاز
تری حیات کی روداد میں ہے سوز و گداز
پہیلیوں میں تری، ذہن کے کئی اسرار
ہر ایک بات میں ہے تیری ندرتِ اظہار
ترے شعور کے دامن میں ہیں وہ پھول تمام
سنا رہے ہیں جو عہدِ بہار کا پیغام
کبھی نہ بن سکا قدرِ دوام شاہی جلال
مگر ہے تازہ ابھی تک ترے ہنر کا جمال
زبانِ آتش و غالب کے اولین فن کار
زبانِ جامی و حافظ میں ہیں ترے شہکار
سلام خسروِ شریں سخن، ہو تجھ پہ سلام
نظر نواز ہے، خاطر نشیں ہے تیرا کلام
ترے کلام میں ہیں دل کی کیفیات کئی
مشاہدات کئی اور تجربات کئی
تری رباعی میں فکر و نظر کا عالم ہے
سرور و کیف کا، جذب و اثر کا عالم ہے
ترا قصیدہ، تری مثنوی، ترے ابیات
نگار خانۂ فن میں مرقعِ جذبات
تری غزل میں تڑپتا ہے جلوۂ صد رنگ
ترا سخن ہے تری زندگی سے ہم آہنگ
ترا خیال، ترانہ ،بسنت اور ملار
دکھا رہے ہیں تری جدت ہنر کی بہار
کبھی ہے بزم میں تو ایک شوخ نغمہ طراز
تورزم میں ہے کبھی ایک ترکِ تیر انداز
ترا طریق غریبی نہیں، امیری ہے
ترا سلوک مگر جادۂ فقیری ہے
بجا ہے، تجھ کو اگر جامع الصفات کہیں
جنون و ہوش کی رنگین کائنات کہیں
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 88)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.