عرش بریں پہ آج دمکتا وہ نور ہے
عرش بریں پہ آج دمکتا وہ نور ہے
جس سے فروغ شمع سرِ کوہِ طور ہے
یہ آنکھیں اور اس کا نظارہ زہے نصیب
دربار انبیا میں جو صدرالصدور ہے
ہاں کیوں نہ ہو یہ نور ہے اس شاہ کا کہ جو
محبوب حق ہے شافع یوم النشور ہے
سلطانِ دیں کہ جس کے غلاموں کے واسطے
سب انتظام جنت و حور و قصور ہے
جنت کی سمت رخ نہ کروں آپ کے بغیر
حضرت کا ہوں گدا تو طبیعت غیور ہے
ممکن ہے مدح کس سے پھر اس ذات پاک کی
مدحت طراز جس کا خدائے غفور ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.