لگی ہے نظر سوئے در شاہ قاتل
دلچسپ معلومات
نوٹ: یہ مشاعرہ حضرت قاتلؔ اجمیری کے عرس کی مناسبت سے عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں منعقد ہوا تھا، اس مشاعرے کی صدارت بہزادؔ لکھنوی نے فرمائی تھی، جبکہ مصرعِ طرح ’’تمہیں ڈھونڈتی ہے نظر شاہِ قاتل‘‘ مقرر کیا گیا تھا۔
لگی ہے نظر سوئے در شاہ قاتل
ادھر بھی ذرا اک نظر شاہ قاتل
یہ دنیا بھی میری وہ دنیا بھی مری
جو ہو جائے مجھ پر نظر شاہ قاتل
خدا کے لیے اب نہ در سے اٹھاؤ
بہت پھر چکا در بدر شاہ قاتل
جو فرقت میں آنسو بہائے ہیں ہم نے
حقیقت میں ہیں وہ گہر شاہ قاتل
جو بھولے سے میں نے کبھی سازؔ چھیڑا
تو رویا ہوں دو دو پہر شاہ قاتل
- کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 45)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.