Font by Mehr Nastaliq Web

لگی ہے نظر سوئے در شاہ قاتل

ساز دہلوی

لگی ہے نظر سوئے در شاہ قاتل

ساز دہلوی

MORE BYساز دہلوی

    دلچسپ معلومات

    نوٹ: یہ مشاعرہ حضرت قاتلؔ اجمیری کے عرس کی مناسبت سے عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں منعقد ہوا تھا، اس مشاعرے کی صدارت بہزادؔ لکھنوی نے فرمائی تھی، جبکہ مصرعِ طرح ’’تمہیں ڈھونڈتی ہے نظر شاہِ قاتل‘‘ مقرر کیا گیا تھا۔

    لگی ہے نظر سوئے در شاہ قاتل

    ادھر بھی ذرا اک نظر شاہ قاتل

    یہ دنیا بھی میری وہ دنیا بھی مری

    جو ہو جائے مجھ پر نظر شاہ قاتل

    خدا کے لیے اب نہ در سے اٹھاؤ

    بہت پھر چکا در بدر شاہ قاتل

    جو فرقت میں آنسو بہائے ہیں ہم نے

    حقیقت میں ہیں وہ گہر شاہ قاتل

    جو بھولے سے میں نے کبھی سازؔ چھیڑا

    تو رویا ہوں دو دو پہر شاہ قاتل

    مأخذ :
    • کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 45)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے