بہت بے چین ہوتا ہوں جو مکہ یاد آتا ہے
بہت بے چین ہوتا ہوں جو مکہ یاد آتا ہے
شہِ ہر دوسرا کا مجھ کو روضہ یاد آتا ہے
مدینے جانے والو! مجھ کو بھی ہمراہ لے لینا
بتاؤں کیا تمہیں مجھ کو کہ کیا کیا یاد آتا ہے
میری آنکھوں میں پھرتے ہیں مدینے کے گلی کوچے
مجھے ہر وقت ان میں چلنا پھرنا یاد آتا ہے
وہ محراب اور وہ جنت کی کیاری اور وہ منبر
جو دل میں نقش ہیں میرے وہ نقشہ یاد آتا ہے
سکونِ قلب پیاری جالیاں پھرتی ہیں نظروں میں
وہیں موجود ہوں میں مجھ کو ایسا یاد آتا ہے
مؤدب دست بستہ حاضری میں نیچی نظروں سے
سلامِ شوق رو رو عرض کرنا یاد آتا ہے
شہنشاهِ کرم! اک بار پھر مجھ پر کرم کر دیں
کہ میں مضطر ہوں مجھ کو سبز گنبد یاد آتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.