Font by Mehr Nastaliq Web

کیوں نہ دل میں وقعت ہو اس قدر مدینے کی

صبیح الدین رحمانی

کیوں نہ دل میں وقعت ہو اس قدر مدینے کی

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    کیوں نہ دل میں وقعت ہو اس قدر مدینے کی

    عرش ادب سے جھکتا ہے خاک پر مدینے کی

    اس کو راس آئے گا کیا بہشت کا منظر

    جس نے سیر کی ہوگی عمر بھر مدینے کی

    یہ در محمد ہے پھونک کر قدم رکھو

    خاکِ رہ بھی ہوتی ہے دیدہ ور مدینے کی

    حشر تک وہ چمکے گا ہمہ تن نظر ہو کر

    جس کو بھی زیارت ہو اک نظر مدینے کی

    جب درود پڑھتے ہی مجھ کو نیند آتی ہے

    خوب سیر کرتا ہوں رات بھر مدینے کی

    جھوم جھوم اٹھتا ہے ہر زماں کا ہر لمحہ

    یاد کتنی ہوتی ہے خوش اثر مدینے کی

    خود کھنچ آئے گا کعبہ اور طواف کر لینا

    اے صبیحؔ رحمانی بات کر مدینے کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے