کیوں نہ دل میں وقعت ہو اس قدر مدینے کی
کیوں نہ دل میں وقعت ہو اس قدر مدینے کی
عرش ادب سے جھکتا ہے خاک پر مدینے کی
اس کو راس آئے گا کیا بہشت کا منظر
جس نے سیر کی ہوگی عمر بھر مدینے کی
یہ در محمد ہے پھونک کر قدم رکھو
خاکِ رہ بھی ہوتی ہے دیدہ ور مدینے کی
حشر تک وہ چمکے گا ہمہ تن نظر ہو کر
جس کو بھی زیارت ہو اک نظر مدینے کی
جب درود پڑھتے ہی مجھ کو نیند آتی ہے
خوب سیر کرتا ہوں رات بھر مدینے کی
جھوم جھوم اٹھتا ہے ہر زماں کا ہر لمحہ
یاد کتنی ہوتی ہے خوش اثر مدینے کی
خود کھنچ آئے گا کعبہ اور طواف کر لینا
اے صبیحؔ رحمانی بات کر مدینے کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.