Font by Mehr Nastaliq Web

ذرے بھی اس کو دیدۂ بینا کی روشنی

صبیح الدین رحمانی

ذرے بھی اس کو دیدۂ بینا کی روشنی

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    ذرے بھی اس کو دیدۂ بینا کی روشنی

    ہاتھ آئے جس کو خاک کفِ پا کی روشنی

    آنکھیں بچھا رہے ہیں مہ و برق و آفتاب

    کیسے بیان ہو مرے آقا کی روشنی

    عرش بریں پہ جلوے کچھ ایسے بکھر گئے

    اب تک ہے دن کا دل شبِ اسریٰ کی روشنی

    صرف ایک شہر طیبہ ہی مرکز نہیں کوئی

    جنت میں بھی ہے گنبدِ خضریٰ کی روشنی

    کیسے نہ آپ نزع میں جلوے دکھائیں گے

    بیمار کا تو حق ہے مسیحا کی روشنی

    اب تک خدا گواہ پریشاں ہے چشمِ شوق

    موسیٰ سے پوچھو منزلِ سینا کی روشنی

    سایہ کسی کو کیسے نظر آئے آپ کا

    سایہ ہے خود ہی محفلِ دنیا کی روشنی

    تاریکیِ لحد اسے کیا چیز ہے صبیحؔ

    جس قلب میں ہو حسنِ سراپا کی روشنی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے