Font by Mehr Nastaliq Web

اصحاب یوں ہیں شاہِ رسولاں کے ارد گرد

سید صبیح الدین رحمانی

اصحاب یوں ہیں شاہِ رسولاں کے ارد گرد

سید صبیح الدین رحمانی

MORE BYسید صبیح الدین رحمانی

    اصحاب یوں ہیں شاہِ رسولاں کے ارد گرد

    جیسے ستارے ماہِ درخشاں کے ارد گرد

    باغِ جناں کی سیر کو جی چاہتا نہیں

    پھیرے کیے ہیں ایسے گلستاں کے ارد گرد

    اک آنکھ سوئے عشق ہے اک آنکھ سوئے فرش

    کونین ہیں ہمارے دل و جاں کے ارد گرد

    پروانہ بن کے آ گئے سدرہ سے جبرئیل

    وہ نورِ حق ہے شمعِ فروزاں کے ارد گرد

    جب سے زیارت شہِ والا ہوئی نصیب

    کونین بس گئے مرے ایماں کے ارد گرد

    حسنین یوں حضور کے آغوش و دوش پر

    اعراب جیسے آیۂ قرآں کے ارد گرد

    روح الامیں سے سیکھیے آدابِ نعتِ پاک

    برسوں رہے ہیں حضرتِ حساں کے ارد گرد

    حرمین پہنچا دیکھتے ہی کربلا صبیحؔ

    کیا معجزے ہیں شاہِ شہیداں کے ارد گرد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے