Font by Mehr Nastaliq Web

کوئی مثل مصطفیٰ کا کبھی تھا، نہ ہے نہ ہوگا

صبیح الدین رحمانی

کوئی مثل مصطفیٰ کا کبھی تھا، نہ ہے نہ ہوگا

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    کوئی مثل مصطفیٰ کا کبھی تھا، نہ ہے نہ ہوگا

    کسی اور کا یہ رتبہ کبھی تھا، نہ ہے نہ ہوگا

    انہیں خلق کر کےنازاں ہوا خود ہی دست قدرت

    کوئی شاہ کار ایسا کبھی تھا، نہ ہے نہ ہوگا

    کسی وہم نےصدا دی کوئی آپ کا مماثل

    تو یقیں پکا اٹھا کبھی تھا، نہ ہے نہ ہوگا

    مرے طاق جاں میں نسبت کے چراغ جل رہے ہیں

    مجھے خوف تیرگی کا کبھی تھا، نہ ہے نہ ہوگا

    میرے دامن طلب کو ہے انہی کے در سے نسبت

    کسی اور سے یہ رشتہ کبھی تھا، نہ ہے نہ ہوگا

    میں ہوں وقفِ نعت گوئی، کسی اور کا قصیدہ

    میری شاعری کا حصہ کبھی تھا، نہ ہے نہ ہوگا

    سر حشر ان کی رحمت کا صبیحؔ میں ہوں طالب

    مجھے کچھ عمل کا دعویٰ کبھی تھا، نہ ہے نہ ہوگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے