حقیقتِ مصطفیٰ کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
حقیقتِ مصطفیٰ کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
سید صبیح الدین رحمانی
MORE BYسید صبیح الدین رحمانی
حقیقتِ مصطفیٰ کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
شعاعیں ہر سو چمک رہی ہیں مگر وہ جلوہ حجاب میں ہے
قریبِ مے خانۂ محمد نہ ہوش باقی نہ جوش باقی
جسے بھی دیکھو بصد عقیدت وہ مست دورِ شراب میں ہے
نفس نفس ان کا نام نامی قدم قدم سجدہء غلامی
کلام مطلق میں جو لکھا ہے وہ درس میرے نصاب میں ہے
نہ سجدہ کیجیے تو عذر مستی جو سجدہ کیجیے تو جرمِ ہستی
براہِ طیبہ قدم قدم پر ثواب بھی کس عذاب میں ہے
ارادہ چاہے کہیں کا بھی ہو قدم اٹھیں گے اسی کی جانب
کشش یہ کیسی خدائے ذیشاں درِ رسالت مآب میں ہے
اطاعت مصطفیٰ کا سہرا یقین و ایماں کا روح و چہرہ
کسی مسلماں کو فکر کیا ہو سوال خود ہی جواب میں ہے
تمام ولیوں کو نورِ ایماں عقیدتِ جاں بہارِ عرفاں
خدا ہی جانے وہ حسنِ پنہاں جو کوچۂ بو تراب میں ہے
صبیحؔ آقا کے وہ کرم ہیں کہ مجھ سے عاصی بھی محترم ہیں
مرے گناہوں کی بے حسابی حضور حق کس حساب میں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.