جان و ایماں سے بڑھ کے پیارا ہے
جان و ایماں سے بڑھ کے پیارا ہے
ان کا غم شوق کا سنوارا ہے
مہر و مہ حشر تک کریں گے طواف
چشمِ سرکار کا اشارہ ہے
ہاتھ پھیلانے کی نہیں حاجت
کیسے داتا کا یہ دوارا ہے
ہر کسی کے شریکِ غم ہیں حضور
کون دنیا میں بے سہارا ہے
کیا کہوں سبز سبز گنبد کو
نورِ وحدت کا ایک دھارا ہے
ان کو دیکھو اور اس کو پہچانو
یہ نظارا بھی کیا نظارا ہے
بحر عشق حضورِ صلِ علیٰ
بیچ منجدھار بھی کنارہ ہے
عرش سے آئی ہے صبیحؔ آواز
جب کبھی آپ کو پکارا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.