وحشی کو انسان بنایا میرے کملی والے نے
وحشی کو انسان بنایا میرے کملی والے نے
روحِ دل و ایمان بنایا میرے کملی والے نے
حشر کے دن کیا کیا نہ گذرتی ایک تبسم کے صدقے
مشکل کو آسان بنایا میرے کملی والے نے
دل میں مدینے کی خواہش بھی ان کے کرم کا صدقہ ہے
دل کو میرے ارمان بنایا میرے کملی والے نے
عرشِ بریں کے گوشوں پر اک شب یہ فرشتے کہتے ہیں
جلووں کو حیران بنایا میرے کملی والے نے
قلب حسینی کہتا تھا واللہ کسی موقع پہ کہیں
جان کو میری جان بنایا میرے کملی والے نے
دے کے فقیروں کے ہاتھوں میں دونوں جہاں کی سوغاتیں
بوذر اور عثمان بنایا میرے کملی والے نے
داتا فرید اور خواجہ میں یہ کس کی ضیا باریاں ہیں
کس نے انہیں ذیشان بنایا میرے کملی والے نے
اس سے بڑا احسان صبیحؔ خاک نشیں پر کیا ہوگا
پیروئے حسان بنایا میرے کملی والے نے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.