Font by Mehr Nastaliq Web

وحشی کو انسان بنایا میرے کملی والے نے

صبیح الدین رحمانی

وحشی کو انسان بنایا میرے کملی والے نے

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    وحشی کو انسان بنایا میرے کملی والے نے

    روحِ دل و ایمان بنایا میرے کملی والے نے

    حشر کے دن کیا کیا نہ گذرتی ایک تبسم کے صدقے

    مشکل کو آسان بنایا میرے کملی والے نے

    دل میں مدینے کی خواہش بھی ان کے کرم کا صدقہ ہے

    دل کو میرے ارمان بنایا میرے کملی والے نے

    عرشِ بریں کے گوشوں پر اک شب یہ فرشتے کہتے ہیں

    جلووں کو حیران بنایا میرے کملی والے نے

    قلب حسینی کہتا تھا واللہ کسی موقع پہ کہیں

    جان کو میری جان بنایا میرے کملی والے نے

    دے کے فقیروں کے ہاتھوں میں دونوں جہاں کی سوغاتیں

    بوذر اور عثمان بنایا میرے کملی والے نے

    داتا فرید اور خواجہ میں یہ کس کی ضیا باریاں ہیں

    کس نے انہیں ذیشان بنایا میرے کملی والے نے

    اس سے بڑا احسان صبیحؔ خاک نشیں پر کیا ہوگا

    پیروئے حسان بنایا میرے کملی والے نے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے