قدرتِ حق کا شہکارِ قدرت اک نظر دیکھ لوں دور ہی سے
قدرتِ حق کا شہکارِ قدرت اک نظر دیکھ لوں دور ہی سے
صبیح الدین رحمانی
MORE BYصبیح الدین رحمانی
قدرتِ حق کا شہکارِ قدرت اک نظر دیکھ لوں دور ہی سے
بے زیارت کے بے کیف جینا میں تو باز آیا اس زندگی سے
آپ کے در پہ دھونی رمائے پھر خود آدابِ حق سیکھ جائے
بندہ پروراگر ہو اجازت صاف کہہ دوں میں یہ بندگی سے
لطف سجدوں کا اس وقت ہوگا بے حجابانہ جب حسن ہوگا
بے محمد کے سر کو جھکانا اک تمسخر سا ہے بندگی سے
ان کی عظمت کو صدیق جانیں اور فاروق و عثمان جانیں
لذتِ عشق سرکار پوچھو تم اویس و بلال و علی سے
زندگی میں کوئی غم نہیں ہے بعد مردن بھلا ہوگا کیسے
میری مٹی ٹھکانے لگے گی مجھ کو نسبت ہے کوئے نبی سے
میرے تاروں کی تو قیر کرنا میرے پھولوں سے تم پیار کرنا
بالیقیں کوئی مؤمن نہیں ہے منحرف ہے جو قولِ نبی سے
جان لیجیے کہ دینِ متیں میں خوشیاں ہی خوشیاں کیوں رونما ہیں
مصطفیٰ والوں نے کربلا میں جانِ جاں دی ہے ایسی خوشی سے
اے صبیحؔ کیا تھا میں کچھ نہیں تھا بد تروں سے کہیں بدتریں تھا
آج حسان کا جانشیں ہوں یعنی جو کچھ ہوں نعتِ نبی سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.