آنکھوں نے جہاں خاک اڑائی ترے در کی
آنکھوں نے جہاں خاک اڑائی ترے در کی
خود قلب میں صورت اتر آئی ترے در کی
کعبہ بھی سرِ عرش بھی فردوس و نجف بھی
وہ دل جسے حاصل ہو رسائی ترے درکی
مقصودِ حقیقی نے قدم بڑھ کے لیے ہیں
جس نے بھی جہاں دی ہے دہائی ترے در کی
میں اہلِ محبت میں امیرالامرا ہوں
راس آئی ہے یوں مجھ کو گدائی ترے در کی
سر کیوں نہ جھکائیں بصد آداب فرشتے
منظور خدا کو ہے خدائی ترے در کی
سجدہ مرا کیسے نہ ہو سجدوں کا بھی قبلہ
پیشانئ ایماں ہے کمائی ترے در کی
جلووں کے بھی جلوے سمٹ آئے مرے دل میں
آنکھوں نے مری خاک جو پائی ترے در کی
سر کو مرے کہتے ہیں صبیحؔ اہلِ نظر در
ممکن نہیں مجھ سے تو جدائی ترے در کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.