Font by Mehr Nastaliq Web

آنکھوں نے جہاں خاک اڑائی ترے در کی

صبیح الدین رحمانی

آنکھوں نے جہاں خاک اڑائی ترے در کی

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    آنکھوں نے جہاں خاک اڑائی ترے در کی

    خود قلب میں صورت اتر آئی ترے در کی

    کعبہ بھی سرِ عرش بھی فردوس و نجف بھی

    وہ دل جسے حاصل ہو رسائی ترے درکی

    مقصودِ حقیقی نے قدم بڑھ کے لیے ہیں

    جس نے بھی جہاں دی ہے دہائی ترے در کی

    میں اہلِ محبت میں امیرالامرا ہوں

    راس آئی ہے یوں مجھ کو گدائی ترے در کی

    سر کیوں نہ جھکائیں بصد آداب فرشتے

    منظور خدا کو ہے خدائی ترے در کی

    سجدہ مرا کیسے نہ ہو سجدوں کا بھی قبلہ

    پیشانئ ایماں ہے کمائی ترے در کی

    جلووں کے بھی جلوے سمٹ آئے مرے دل میں

    آنکھوں نے مری خاک جو پائی ترے در کی

    سر کو مرے کہتے ہیں صبیحؔ اہلِ نظر در

    ممکن نہیں مجھ سے تو جدائی ترے در کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے