بڑھ گیا حدِ جنوں سے نام لیوا آپ کا
بڑھ گیا حدِ جنوں سے نام لیوا آپ کا
آپ کو خود مانگنے آیا ہے منگتا آپ کا
محفلِ محشر میں دیدارِ خدا ہوگا ضرور
کاش ایسے میں نظر آجائے جلوہ آپ کا
لاکھ سجدے ہوں مگر سجدے سے کیا حاصل اسے
جس کی قسمت میں نہ ہو نقشِ کف پا آپ کا
آفتابِ روزِمحشر کو چمکنے دیجیے
جلوہ گر ہے ہم سیہ کاروں پہ سایہ آپ کا
آپ کے در پر کسی کو موت آسکتی نہیں
دم بھرے گا مسکرا کر خود مسیحا آپ کا
عرش والے آپ کی صورت پہ قرباں ہوگئے
کیا سمجھ سکتے ہیں رتبہ اہلِ دنیا آپ کا
بارگاہِ طور کا عالم کہوں کیا اے صبیحؔ
چشمِ موسیٰ آج بھی پڑھتی ہے کلمہ آپ کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.