حسن مطلق کے لیے ذاتِ گرامی چاہیے
حسن مطلق کے لیے ذاتِ گرامی چاہیے
طوفِ کعبہ میں بھی طیبہ کی سلامی چاہیے
مشکلیں خود مشکلوں میں مبتلا ہوجائیں گی
ہاں زبانِ دل سے وردِ نامِ نامی چاہیے
عرش کیا معراج کیا اور منزلِ قوسین کیا
اس سے بڑھ کر آپ کو اعلیٰ مقامی چاہیے
ہر ملک صرف ایک بار آتا ہے درِ دربارِ پاک
کم سے کم اتنا تو آدابِ سلامی چاہیے
جرم رحمت بن کے چھا جائیں فضائے روح پر
عرصۂ محشر میں مجھ کو ایسا حامی چاہیے
ہر نفس پر مستقل چھلکے گا جامِ معرفت
چشمۂ کوثر کی اصلی تشنہ کامی چاہیے
میری کیا جرات کہ بن جاؤں غلام ِ مصطفیٰ
مجھ کو تو ان کے غلاموں کی غلامی چاہیے
نعت گوئی کے لیے درکار ہے کچھ تو صبیحؔ
حسنِ حساں صدقِ قدسی جامِ جامی چاہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.