Font by Mehr Nastaliq Web

لکھے تھے کبھی نعت کے اشعار بہت سے

صبیح الدین رحمانی

لکھے تھے کبھی نعت کے اشعار بہت سے

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    لکھے تھے کبھی نعت کے اشعار بہت سے

    گھر میں ہیں مرے آج بھی انوار بہت سے

    اے شافع محشر لبِ اعجاز ہلائیں

    تکتے ہیں کھڑے منہ کو گنہگار بہت سے

    محشر میں محمد بھی ہیں یوسف بھی ہیں موجود

    اب دیکھیے کس کے ہوں خریدار بہت سے

    شاید ہو اسی سال مدینے میں حضوری

    آئے ہیں نظر خواب میں آثار بہت سے

    پائی نہ جہاں بھر میں مثالِ شہِ لولاک

    جبریل نے دیکھے تو طرح دار بہت سے

    قربان تری رحمت پہ کہ جب وقت پڑا تو

    تجھ بن نہ رہا کوئی تھے غم خوار بہت سے

    ہم کو بھی صبیحؔ اس درِ رحمت نے نوازا

    جس در سے ہوئے صاحبِ دستار بہت سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے