لکھے تھے کبھی نعت کے اشعار بہت سے
لکھے تھے کبھی نعت کے اشعار بہت سے
گھر میں ہیں مرے آج بھی انوار بہت سے
اے شافع محشر لبِ اعجاز ہلائیں
تکتے ہیں کھڑے منہ کو گنہگار بہت سے
محشر میں محمد بھی ہیں یوسف بھی ہیں موجود
اب دیکھیے کس کے ہوں خریدار بہت سے
شاید ہو اسی سال مدینے میں حضوری
آئے ہیں نظر خواب میں آثار بہت سے
پائی نہ جہاں بھر میں مثالِ شہِ لولاک
جبریل نے دیکھے تو طرح دار بہت سے
قربان تری رحمت پہ کہ جب وقت پڑا تو
تجھ بن نہ رہا کوئی تھے غم خوار بہت سے
ہم کو بھی صبیحؔ اس درِ رحمت نے نوازا
جس در سے ہوئے صاحبِ دستار بہت سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.