ذکر سرکار دو عالم سے سوا رکھا ہے
ذکر سرکار دو عالم سے سوا رکھا ہے
یہ طریق اہلِ محبت نے روا رکھا ہے
آپ کے نام سے مقبول ہے کاوش میری
ورنہ میں کیا مرے اشعار میں کیا رکھا ہے
قدمِ صاحب معراج نے بخشا ہے عروج
ورنہ سچ پوچھو تو کونین میں کیا رکھا ہے
ارضِ طیبہ کا تصور ہے سبق جینے کا
حق نے مٹی میں بھی کیا رازِ شفا رکھا ہے
از ازل تا بہ ابد جو بھی جہاں ہے جو کچھ
حق نے سب کچھ انہیں قدموں پہ جھکا رکھا ہے
حاضریِ حرمِ کعبہ کا میں اہل نہیں
میں نے کعبہ درِ اقدس کو بنا رکھا ہے
مل ہی جائے گی کسی روز بصیرت مجھ کو
میں نے کچھ ذرّوں کو آنکھوں سے لگا رکھا ہے
کرمِ سیدِ کونین کو کیا کہیے صبیحؔ
درد کا نام محبت نے دوا رکھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.