وصف لکھنا حضورِ انور کا
وصف لکھنا حضورِ انور کا
ہے تقاضہ یہ مرے اندر کا
وہ ہیں آئینۂ جمال ایسا
عکس ہے جس میں آئینہ گر کا
آپ کو جو نہیں ہمارا نہیں
ہے یہ اعلان ربِ اکبر کا
دشمنوں کی زباں تک پہنچا
تذکرہ ان کے خلقِ اطہر کا
جس میں ان کی ثنا کے دیپ جلیں
ہیں اجالے مقدر اس گھر کا
میرے طاق دعا میں ہے روشن
اک چراغ اسم پاک سرور کا
بخش دے جو سوال سے پہلے
ہوں گدا اس درِ مخیر کا
گل نظارہ صحن جاں میں کھلے
دیکھ لوں میں بھی در پیمبر کا
کون ہے اے صبیحؔ ان کا مثیل
ہے تصور محال ہمسر کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.