Font by Mehr Nastaliq Web

ختم ہونے ہی کو ہے در بدری کا موسم

صبیح الدین رحمانی

ختم ہونے ہی کو ہے در بدری کا موسم

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    ختم ہونے ہی کو ہے در بدری کا موسم

    جلد دیکھوں گا میں شہر نبوی کا موسم

    فرش پر عرش کے حالات سنائے ہم کو

    اُن کے آنے سے گیا بے خبری کا موسم

    آپ نے آکے بتائے ہیں بصیرت کے رموز

    آپ سے سب کو ملا خوش نگہی کا موسم

    ان کی نسبت سے دعاؤں کا شجر سبز ہوا

    ورنہ ٹلتا ہی نہ تھا بے ثمری کا موسم

    گنبد سبز کو چوما تو نظر نے پایا

    حق شناسی کا ثمر دیدہ وری کا موسم

    تنگ دامانی پہ شرمندہ ہوں اپنی ہی صبیحؔ

    دَین میں ان کی کہاں ورنہ کمی کا موسم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے