قلم خوشبو کا ہو اور اس سے د ل پر روشنی لکھوں
قلم خوشبو کا ہو اور اس سے د ل پر روشنی لکھوں
مجھے توفیق دے یا رب کہ میں نعت نبی لکھوں
لباسِ حرف میں ڈھالوں میں کردارِ حسیں ان کا
امیں لکھوں اماں لکھوں غنی لکھوں سخی لکھوں
حرا کے سوچتے لمحوں کو زندہ ساعتیں لکھ کر
صفا کی گفتگو کو آبشارِ آگہی لکھوں
تمنا ہے کہ ہو وہ نامِ نامی آپ کا آقا
میں جو لفظ آخری بولوں میں جو لفظ آخری لکھوں
قلم کی پیاس بجھتی ہی نہیں مدح محمد میں
میں کن لفظوں میں اپنا اعتراف تشنگی لکھوں
جبینِ وقت پر حسان و جامی کی طرح چمکوں
صبیحؔ ان کی غلامی کو متاعِ زندگی لکھوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.