کر رہے ہیں تیری ثنا خوانی
کر رہے ہیں تیری ثنا خوانی
سوچتی دھرتی بولتا پانی
تو ہے آئینہ ازل یا رب
اور میں ہوں اَبد کی حیرانی
تیرے جلوؤں کے دم سے لیل و نہار
تیرے سورج کی سب درخشانی
گونجتا ہے ثنا کے نغموں سے
گنبدِ جاں ہے میرا نورانی
پار ہوتی نہیں مرے مولیٰ
درد کی سرحدیں ہیں طولانی
تجھ سے بخشش کا ہے تمنائی
تیرا بندہ صبیحؔ رحمانی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.