Font by Mehr Nastaliq Web

خواب روشن ہو گئے مہکا بصیرت کا گلاب

صبیح الدین رحمانی

خواب روشن ہو گئے مہکا بصیرت کا گلاب

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    خواب روشن ہوگئے مہکا بصیرت کا گلاب

    جب کھلا شاخِ نظر پر ان کی رویت کا گلاب

    گفتگو خوشبو کے لہجے میں سکھائی آپ نے

    خارِ نفرت چن لیے دے کر محبت کا گلاب

    خلق کی خوشبو تمام ادوار میں رچ بس گئی

    باغِ ہستی میں کھلا یوں ان کی شفقت کا گلاب

    زیست کے تپتے ہوئے صحرا میں ہے وجہِ سکوں

    ان کی یاد ان کی تمنا ان کی سیرت کا گلاب

    ہر صدی ہر عہد کے گلشن کو ان کی آرزو

    ہر زمانے میں کھلا ہے ان کی چاہت کا گلاب

    عطر آسودہ فضائیں کیوں نہ ہوں اس شہر کی

    خاکِ طیبہ کا ہر اک ذرہ ہے جنت کا گلاب

    نعت لکھتا ہوں صبیحؔ ان کی عطا کے سائے میں

    ہے بیاضِ نعت کا ہر شعر رحمت کا گلاب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے