Font by Mehr Nastaliq Web

خدا ہی جانے ہیں کیا خبر کہ کب سے ہے

صبیح الدین رحمانی

خدا ہی جانے ہیں کیا خبر کہ کب سے ہے

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    خدا ہی جانے ہیں کیا خبر کہ کب سے ہے

    جو ان کے ذکر کا رشتہ ہمارے لب سے ہے

    نہ ان سے پہلے کوئی تھا نہ ان کے بعد کوئی

    جدا جہاں میں نبی کا مقام سب سے ہے

    ہو دل کا نور نگاہوں کا نور علم کا نور

    ہر ایک نور کو نسبت مہِ عرب سے ہے

    مری پکار درِ سیدالوریٰ تک ہے

    مرا سوال اسی شاہِ خوش لقب سے ہے

    نگاہِ بندہ نوازی تجھے درود و سلام

    کہ تیرا لطف زیادہ مری طلب سے ہے

    صبیحؔ کو بھی اجازت ہو بار یابی کی

    حضور آپ سے یہ التماس ادب سے ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے