Font by Mehr Nastaliq Web

کیا ذکر محمد نے تسکین دلائی ہے

صبیح الدین رحمانی

کیا ذکر محمد نے تسکین دلائی ہے

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    کیا ذکر محمد نے تسکین دلائی ہے

    جس آگ میں جلتا تھا وہ آگ بجھائی ہے

    شیدائے محمد کی ہر شان ہے ذیشانی

    دامانِ کرم سر پہ قدموں میں خدائی ہے

    کعبے کا ارادہ تھا لے آئی مدینے میں

    تدبیر کے سائے میں تقدیر بن آئی ہے

    خود آنکھیں بچھاتے ہیں راہوں میں خرد والے

    دیوانۂ طیبہ کی کیا خوب بن آئی ہے

    صد طور بداماں ہے ہر سانس نظر بن کر

    انوار شہِ دیں نے تقدیر جگائی ہے

    توصیف شہِ والا کس منہ سے بیاں ہوگی

    قرآں کی قسم قرآں خود مدح سرائی ہے

    اس نام کی برکت سے اس ذکر حقیقت سے

    ہر نعت کا متوالا جامی و سنائی ہے

    اسلام کی سیرابی مقصد تھا صبیحؔ ان کا

    عاشور کے پیاسوں کی خشکی بھی ترائی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے