مرجان نہ یاقوت نہ لعلِ یمنی مانگ
مرجان نہ یاقوت نہ لعلِ یمنی مانگ
اللہ سے جذبات اویسِ قرنی مانگ
محشر کی تمازت سے نجات آج ہی پالے
اس گیسوئے رحمت کی ذرا چھاؤں گھنی مانگ
اس سے بڑی نعمت نہیں کونین میں کوئی
سرکار سے سرکار کی بس ہم وطنی مانگ
گم سم تھا درِ شہ پہ کہا آکے کسی نے
قسمت سے یہ موقع ملا قسمت کے دھنی مانگ
مانگے گا تو جتنا بھی سوا پائے گا اس سے
دنیا میں ہے بس اک یہی دربار غنی مانگ
واللہ کہ ہر نعمتِ کونین ملے گی
تو صدقۂ سرکارِ حسینی حسنی مانگ
لطف اور بھی آئے گا صبیحؔ ان کی ثنا کا
حسان سے حسان کی شیریں سخنی مانگ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.