میں نے اس قرینے سے نعتِ شہ رقم کی ہے
میں نے اس قرینے سے نعتِ شہ رقم کی ہے
شعربعد میں لکھا پہلے آنکھ نم کی ہے
یہ خیال رہتا ہے یہ ملال رہتا ہے
مدحتِ نبی میں نے جتنی کی ہے کم کی ہے
میرے ساتھ چلتی ہیں برکتیں درودوں کی
میری راہ میں آئے کیا مجال غم کی ہے
ان کو سوچتے رہنا بھی تو اک عبادت ہے
اور یہ عبادت بھی ہم نے دم بہ دم کی ہے
میں غزل سے دور آیا جب سے یہ شعور آیا
نعتِ مصطفیٰ لکھنا آبرو قلم کی ہے
ان کو چاہنے سے میں چاہا جا رہا ہوں صبیحؔ
بھیک میرے دامن میں ان کے ہی کرم کی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.