Font by Mehr Nastaliq Web

لو ختم ہوا طیبہ کا سفر دل وجد میں ہے جاں وجد میں ہے

صبیح الدین رحمانی

لو ختم ہوا طیبہ کا سفر دل وجد میں ہے جاں وجد میں ہے

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    لو ختم ہوا طیبہ کا سفر دل وجد میں ہے جاں وجد میں ہے

    ہے گنبدِ خضرا پیشِ نظر دل وجد میں ہے جاں وجد میں ہے

    پڑھتی ہے ہوا قرآن یہاں کرتا ہے وضو ایمان یہاں

    اللہ غنی یہ کیف و اثر دل وجد میں ہے جاں وجد میں ہے

    بیٹھا ہوں نبی کے قدموں میں صدیاں سمٹی ہیں لمحوں میں

    اس حاضری اور حضوری پر دل وجد میں ہے جاں وجد میں ہے

    پلکوں پہ دیے جھلمل جھلمل لفظوں کا ادا کرنا مشکل

    جذبوں کی زباں ہے چشمِ تر دل وجد میں ہے جاں وجد میں ہے

    اس در کی سلامی نے مجھ کو وہ کیف دوامی بخشا ہے

    اب جس کے اثر سے شام و سحر دل وجد میں ہے جاں وجد میں ہے

    بجھتی ہوئی آنکھوں کو لے کر حاضر ہوں صبیحؔ مواجہ پر

    ہر منظر ہے معراجِ نظر دل وجد میں ہے جاں وجد میں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے