غم نہیں جاتی ہے جائے ساری دنیا چھوڑ کر
غم نہیں جاتی ہے جائے ساری دنیا چھوڑ کر
پر نہ جائے یادِ آقا مجھ کو تنہا چھوڑ کر
تھا شب اسریٰ بھی ان کو کتنا امت کا خیال
میرے آقا آگئے عرشِ معلیٰ چھوڑ کر
جب مطالف جاں میں گو نجا نعرۂ صلِ علیٰ
کعبۂ دل سے گئے بت اپنا قبضہ چھوڑ کر
ہر قدم پر رہبری کی اسوۂ سرکار نے
کب گیا ہے یہ اجالا ساتھ میرا چھوڑ کر
ان کے آنے سے وہ صحرا گلشنِ شاداب ہے
سارے دریا بہہ رہے تھے جس کو تشنہ چھوڑ کر
قریۂ یادِ نبی میں ہوں مکیں اک عمر سے
میں جاؤں گا کہیں اب یہ ٹھکانہ چھوڑ کر
میرے آقا پھر مجھے اذنِ حضوری ہو نصیب
آ گیا بابِ کرم پر یہ عریضہ چھوڑ کر
کس قدر مشکل ہے میں نے آج یہ جانا صبیحؔ
نعت کہنا اور وہ بھی اپنا لہجہ چھوڑ کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.