Font by Mehr Nastaliq Web

غم نہیں جاتی ہے جائے ساری دنیا چھوڑ کر

صبیح الدین رحمانی

غم نہیں جاتی ہے جائے ساری دنیا چھوڑ کر

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    غم نہیں جاتی ہے جائے ساری دنیا چھوڑ کر

    پر نہ جائے یادِ آقا مجھ کو تنہا چھوڑ کر

    تھا شب اسریٰ بھی ان کو کتنا امت کا خیال

    میرے آقا آگئے عرشِ معلیٰ چھوڑ کر

    جب مطالف جاں میں گو نجا نعرۂ صلِ علیٰ

    کعبۂ دل سے گئے بت اپنا قبضہ چھوڑ کر

    ہر قدم پر رہبری کی اسوۂ سرکار نے

    کب گیا ہے یہ اجالا ساتھ میرا چھوڑ کر

    ان کے آنے سے وہ صحرا گلشنِ شاداب ہے

    سارے دریا بہہ رہے تھے جس کو تشنہ چھوڑ کر

    قریۂ یادِ نبی میں ہوں مکیں اک عمر سے

    میں جاؤں گا کہیں اب یہ ٹھکانہ چھوڑ کر

    میرے آقا پھر مجھے اذنِ حضوری ہو نصیب

    آ گیا بابِ کرم پر یہ عریضہ چھوڑ کر

    کس قدر مشکل ہے میں نے آج یہ جانا صبیحؔ

    نعت کہنا اور وہ بھی اپنا لہجہ چھوڑ کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے