Font by Mehr Nastaliq Web

جبین شب پر رقم کیے حرف کہکشاں کے

صبیح الدین رحمانی

جبین شب پر رقم کیے حرف کہکشاں کے

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    جبین شب پر رقم کیے حرف کہکشاں کے

    نصیب بدلے ہیں آپ نے ظلمت جہاں کے

    خدا سے بندوں کو آپ کتنا قریب لائے

    مٹا دیے فاصلے تھے جو کچھ بھی درمیاں کے

    ضعیف لوگوں کے حق میں قد آوری کا پیغام

    وہ بے نوا کی نوا مددگار ناتواں کے

    نصاب تہذیب و آگہی کے چراغ دے کر

    یقیں اجالوں کو کر دیا ساتھ کارواں کے

    وہ روشنی جس سے راہ پاتا ہے ہر زمانہ

    نقوش پا ہیں کہ ہیں چراغ آئندگاں کے

    در نبی پر دعائیں اشکوں میں ڈھل رہی ہیں

    کہ کھل رہے ہیں گناہ گاروں پر در اماں کے

    چراغِ اسم نبی ہوا لب پہ کیا فروزاں

    صبیحؔ روشن ہوئے ہیں ایوان جسم و جاں کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے