جبین شب پر رقم کیے حرف کہکشاں کے
جبین شب پر رقم کیے حرف کہکشاں کے
نصیب بدلے ہیں آپ نے ظلمت جہاں کے
خدا سے بندوں کو آپ کتنا قریب لائے
مٹا دیے فاصلے تھے جو کچھ بھی درمیاں کے
ضعیف لوگوں کے حق میں قد آوری کا پیغام
وہ بے نوا کی نوا مددگار ناتواں کے
نصاب تہذیب و آگہی کے چراغ دے کر
یقیں اجالوں کو کر دیا ساتھ کارواں کے
وہ روشنی جس سے راہ پاتا ہے ہر زمانہ
نقوش پا ہیں کہ ہیں چراغ آئندگاں کے
در نبی پر دعائیں اشکوں میں ڈھل رہی ہیں
کہ کھل رہے ہیں گناہ گاروں پر در اماں کے
چراغِ اسم نبی ہوا لب پہ کیا فروزاں
صبیحؔ روشن ہوئے ہیں ایوان جسم و جاں کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.