Font by Mehr Nastaliq Web

نشاں اسی کے ہیں سب اور بے نشاں وہ ہے

صبیح الدین رحمانی

نشاں اسی کے ہیں سب اور بے نشاں وہ ہے

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    نشاں اسی کے ہیں سب اور بے نشاں وہ ہے

    چراغ اور اندھیرے کے درمیاں وہ ہے

    نمود لالہ و گل میں وہی ہے چہرہ نما

    شجر شجر پہ لکھا حرفِ داستاں وہ ہے

    جبین شمس و قمر اس کے نور سے تاباں

    سنہری دھوپ ہے وہ حسن کہکشاں وہ ہے

    اسی کی ذات کے ممنون خد و خال حیات

    کہ اور کون ہے صورت گر جہاں وہ ہے

    ہر اک افق پہ اسی کا دوام روشن ہے

    جو شے فانی ہے بس ایک جاوداں وہ ہے

    کیا ہے جرم سے پہلے ہی اہتمام کرم

    چراغ رحمت آقا میں ضو فشاں وہ ہے

    اسی کی یاد لہو سے کلام کرتی ہے

    ہے جس کے ذکر سے آباد شہر جاں وہ ہے

    سکوت نیم شبی میں پکارتا ہوں اس

    کہ میں ہوں درد کی دستک در اماں وہ ہے

    زبان اشک سے مانگو دعائیں بخشش کی

    بڑا رحیم نہایت ہی مہرباں وہ ہے

    اسی کی مدح میں لو دے رہے ہیں لفظ صبیحؔ

    سخن کا نور ہے وہ لذت بیاں وہ ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے