آ جائے جو میرے یہاں وہ سرور دیں آج
آ جائے جو میرے یہاں وہ سرور دیں آج
ہو جائے زمیں گھر کی مری عرش بریں آج
پیدا جو ہوا کعبہ میں وہ سرور دیں آج
بنیاد نہیں کفر کی باقی ہے کہیں آج
جاتا ہے فلک پر جو وہ شاہشہ دیں آج
اس رتبہ پہ نازاں ہے بہت عرش بریں آج
پوچھے نہ محمد کے کوئی رتبہ کو ہم سے
آئے ہیں جنہیں لینے کو جبرئیل امیں آج
کس ناز سے آپس میں یہاں ہوتی ہیں باتیں
مل بیھٹے جو ہیں عاشق و معشوق قریں آج
امت کی ہے غمخواری بہت آپ کو منظور
باندھے ہیں شفاعت پہ کمر سرور دیں آج
دیدار دکھا دو اسے اب یا شہِ لولاک
فرقت کی تری تاب ہے صابرؔ کو نہیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.