ہمارے دل سے پوچھے کوئی رتبہ شاہِ قاتل کا
دلچسپ معلومات
نوٹ: حضرت قاتلؔ اجمیری کے چہلم کے موقع پر عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں ضیاؤالقادری بدایونی کی صدارت میں ایک طرحی مشاعرہ منعقد ہوا، جس کے لیے مصرعِ طرح ’’مریدوں کے لیے کعبہ ہے روضہ شاہِ قاتل کا‘‘ سیمابؔ اکبرآبادی نے اپنے زمانۂ علالت میں پیش کیا۔
علاؤالدین
صابر میرٹھی
ٹیچر سٹی ہائی اسکول، کراچی
ہمارے دل سے پوچھے کوئی رتبہ شاہِ قاتل کا
مریدوں کے لیے کعبہ ہے روضہ شاہِ قاتل کا
یہ وہ چوکھٹ ہے جس پر بھیک ملتی ہے امیروں کو
گداؤں کے لیے ہے فیض دریا شاہِ قاتل کا
خدائی کیوں نہ ہو شیدا و عاشق شاہِ قاتل کی
خدا خود بن گیا ہو جبکہ شیدا شاہِ قاتل کا
مرا رنج غم رقت ہزاروں عیش سے بہتر
زہے قسمت کہ میں شیدا ہوں شیدا شاہِ قاتل کا
جسے دیکھا بقا بااللہ اس کو کر دیا صابرؔ
لقب بخشا ہے حق نے پیارا پیارا شاہِ قاتل کا
- کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 29)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.