Font by Mehr Nastaliq Web

ہمارے دل سے پوچھے کوئی رتبہ شاہِ قاتل کا

صابر میرٹھی

ہمارے دل سے پوچھے کوئی رتبہ شاہِ قاتل کا

صابر میرٹھی

MORE BYصابر میرٹھی

    دلچسپ معلومات

    نوٹ: حضرت قاتلؔ اجمیری کے چہلم کے موقع پر عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں ضیاؤالقادری بدایونی کی صدارت میں ایک طرحی مشاعرہ منعقد ہوا، جس کے لیے مصرعِ طرح ’’مریدوں کے لیے کعبہ ہے روضہ شاہِ قاتل کا‘‘ سیمابؔ اکبرآبادی نے اپنے زمانۂ علالت میں پیش کیا۔

    علاؤالدین

    صابر میرٹھی

    ٹیچر سٹی ہائی اسکول، کراچی

    ہمارے دل سے پوچھے کوئی رتبہ شاہِ قاتل کا

    مریدوں کے لیے کعبہ ہے روضہ شاہِ قاتل کا

    یہ وہ چوکھٹ ہے جس پر بھیک ملتی ہے امیروں کو

    گداؤں کے لیے ہے فیض دریا شاہِ قاتل کا

    خدائی کیوں نہ ہو شیدا و عاشق شاہِ قاتل کی

    خدا خود بن گیا ہو جبکہ شیدا شاہِ قاتل کا

    مرا رنج غم رقت ہزاروں عیش سے بہتر

    زہے قسمت کہ میں شیدا ہوں شیدا شاہِ قاتل کا

    جسے دیکھا بقا بااللہ اس کو کر دیا صابرؔ

    لقب بخشا ہے حق نے پیارا پیارا شاہِ قاتل کا

    مأخذ :
    • کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 29)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے