پوچھتے ہیں مجھے تجھ کو کیا چاہیے
پوچھتے ہیں مجھے تجھ کو کیا چاہیے
کچھ نہیں! دامنِ مصطفیٰ چاہیے
میں مدینے سے گرچہ بہت دور ہوں
کیا ہوا! ان کی نظرِ عطا چاہیے
مل گئی جن کو دہلیزِ بابِ کرم
کون سا ان کو اور آسرا چاہیے
تجھ کو ہونے نہ دیں گے وہ رسوا کبھی
اک تری آنکھ میں نم ذرا چاہیے
نام نامی جو آئے زباں پر کبھی
چومنا چاہیے، جھومنا چاہیے
جس کو ہو خواہشِ خلد دل سے کہے
دو جہاں میں مجھے مصطفیٰ چاہیے
ان کا بیمار ہوں، ان کے ہاں لے چلو
اور کوئی نہیں اب دوا چاہیے
سر زمینِ نبی بھی بڑی چیز ہے
اس زمیں ہی کی خاکِ شفا چاہیے
صابرؔ صابری تو کیوں مایوس ہے
تجھ کو در ان کو در کا گدا چاہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.