سر جھکا کر آگیا ہے آپ کے در پر حضور
سر جھکا کر آگیا ہے آپ کے در پر حضور
اک گدائے بے نوا اک مور بے برگ و شعور
دل میں درد و سوز کی لذت، لبوں پر ہے درود
آپ کی شفقت کا طالب، شافعِ يومِ نشور
آپ کے فیض و کرم پر ہے مدار زندگی
آپ ہیں بے شک فروغِ صبحِ اعصار و دہور
ایک آہِ نارسا ہے، طالبِ چشمِ کرم
آپ کے در کا ہے خواہاں ایک قلبِ ناصبور
ایک مدت سے اسیرِ جور ہے بدرِؔ حزیں
آپ کی بس اک نظر ہے دین و دنیا کا سرور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.